اتراکھنڈ۔

کوسی بیراج پر سورکھاب پرندوں کی شام کی اڑان ایک کشش بن گئی ہے، جو سورج غروب ہوتے ہی پرندوں کو دیکھنے والوں کے ہجوم کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

Editor
February 11 2026 Updated: February 11 2026
0 0
کوسی بیراج پر سورکھاب پرندوں کی شام کی اڑان ایک کشش بن گئی ہے، جو سورج غروب ہوتے ہی پرندوں کو دیکھنے والوں کے ہجوم کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

رام نگر۔ روڈی شیلڈک، جسے مقامی طور پر سورکھاب کے نام سے جانا جاتا ہے، جو وسطی ایشیا سے ہندوستان کی طرف ہجرت کرتا ہے، ان دنوں دریائے کوسی اور کوسی بیراج کے علاقوں میں ایک خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ تماشا، خاص طور پر کوسی بیراج اور کوسی کیفے کے آس پاس، شام کے قریب آتے ہی شاندار ہوتا ہے، جہاں بڑی تعداد میں مقامی لوگ اور پرندوں کو دیکھنے والے ان ہجرت کرنے والے پرندوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سورکھاب پرندوں کی بڑے پیمانے پر شام کی پرواز ہے۔ جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، یہ سورکھاب پرندے کوسی بیراج کے علاقے سے بڑے پیمانے پر اڑتے ہیں اور رات کے لیے دوسرے محفوظ ٹھکانوں کی طرف جاتے ہیں۔ ان سینکڑوں پرندوں کا ایک ساتھ اڑنے کا نظارہ واقعی دل موہ لینے والا ہے۔ ان کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ اور ان کی اجتماعی پکار پوری فضا کو منور کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ، ہر شام، غروب آفتاب سے پہلے، لوگ اس خاص لمحے کا انتظار کرنے کے لیے کوسی بیراج اور کوسی کیفے کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس نایاب نظارے کو اپنے موبائل فونز اور کیمروں میں قید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، تاکہ وہ ان خوبصورت یادوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر سکیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرخ رنگ کے ٹرنز کی شام کی پرواز نہ صرف فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک آرام دہ تجربہ ہے بلکہ اس علاقے کے لیے قدرتی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی بن رہا ہے۔ اگر اس طرح کے قدرتی مقامات کو محفوظ اور فروغ دیا جائے تو کوسی بیراج کا علاقہ مستقبل میں پرندوں کی سیاحت کے لیے ایک خاص مقام بن سکتا ہے۔

WHAT'S YOUR REACTION?

  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0

COMMENTS